صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل— ان برتنوں کے متعلق ابواب کا مجموعہ جن سے وضو اور غسل کیا جاتا ہے ۔
(100) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، باب: گذشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بِتَغْطِيَةِ الْأَوَانِي بِاللَّيْلِ لَا بِالنَّهَارِ جَمِيعًااور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت برتن ڈھانپنے کا حُکم دیا ہے سارا دن یہ حُکم نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ غَيْرَ مِخَمَّرٍ ، فَقَالَ : " أَلا خَمَّرْتَهُ ، وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ بِعُودٍ " . قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : إِنَّمَا أَمَرَ بِالأَبْوَابِ أَنَّ يُغَلَّقَ لَيْلا ، وَإِنَّمَا أَمَرَ بِالأَسْقِيَةِ أَنْ يُخَمَّرَ لَيْلا ، وَقَالَ الدَّارِمِيُّ : إِنَّمَا أَمَرَ بِالآنِيَةِ أَنْ تُخَمَّرَ لَيْلا ، وَبِالأَوْعِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلا ، وَلَمْ يَذْكُرِ الأَبْوَابَسیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نقیع سے بغیر ڈھانپے دودھ کا پیالہ لیکر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ اگرچہ چوڑائی کے رُخ لکڑی رکھ کر ہی ڈھانپتے۔ “ ابو حمید فرماتے ہیں کہ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت دروازے بند کرنے کا حُکم دیا ہے۔ اور رات کے وقت مشکیزوں کو ڈھانپنے کا حُکم دیا ہے۔ دارمی کی روایت میں ہے کہ بلا شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت برتنوں کو ڈھانپنے اور مشکیزوں کو باندھنے کا حُکم دیا ہے۔ اور دروازوں کا ذکر نہیں کیا۔