حدیث نمبر: 1288
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ شَيْءٌ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يُرِيدُ شَيْئًا كَثِيرًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب موذن اذان دے دیتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام جلدی جلدی ستونوں کو سُترہ بنا کر نماز پڑھنا شروع کر دیتے حتیٰ کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور وہ اسی طرح مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھ رہے ہوتے ۔ اور اذان اور اقامت کے درمیان کچھ ( زیادہ ) وقفہ نہیں ہوتا تھا ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا مطلب ہے کہ زیادہ طویل وقفہ نہیں ہوتا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأوقات التى ينهى عن صلاة التطوع فيهن / حدیث: 1288
تخریج حدیث صحيح بخاري