صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأوقات التى ينهى عن صلاة التطوع فيهن— ان اوقات کے ابواب کا مجموعہ جن میں نفل نماز پڑھنا منع ہے
(576) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ نَهْيٌ خَاصٌّ لَا عَامٌّ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ صبح کے بعد طلوع شمس تک اور نماز عصر کے بعد غروب شمس تک نماز پڑھنے سے منع کرنا ، یہ ایک خاص ممانعت ہے ، عام نہیں ،
حدیث نمبر: 1276
إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ التَّطَوُّعِ لَا كُلَّهُ، وَقَدْ أَعْلَمْتُ قَبْلُ فِي الْبَابِ الَّذِي تَقَدَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ بِهَذَا النَّهْيِ نَهْيًا عَنْ صَلَاةِ الْفَرِيضَةِمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد بعض نفلی نمازوں سے منع کرنا تھا تمام نفلی نمازوں سے منع کرنا مراد نہیں ۔ اور گزشتہ باب میں یہ بھی بیان کرچکا ہوں کہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد فرض نماز سے منع کرنا بھی نہیں تھا
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا " صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ؛ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ صَلَّى بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت اس لئے پڑھی تھیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد کوئی ( سنّت یا نفل ) نماز نہیں پڑھ سکے تھے ۔