حدیث نمبر: 1252
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، فَغَفَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ . قَدْ خَرَّجْتُ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک سفر میں ) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری پہر آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا تو ہم بیدار نہ ہو سکے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ ہر شخص اپنی سواری کے سر کو پکڑ لے ( اور یہاں سے چل پڑے ) کیونکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آگیا ہے اور اُس نے ہمیں ( نماز سے ) غافل کر دیا ہے ( چنانچہ کچھ آگے جاکر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا - ( فجر کی ) دو سنّتیں ادا کیں ، پھر اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی ۔ میں یہ واقعہ اس جگہ کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بیان کر چکا ہوں ، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صبح کی نماز سے سوئے رہ جانے کا تذکرہ ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر / حدیث: 1252
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح