صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر— سفر میں نفل نماز پڑھنے کے متعلق ابواب کا مجموعہ
(562) بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ باب: سفر میں فرض نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، فَغَفَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ . قَدْ خَرَّجْتُ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک سفر میں ) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری پہر آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا تو ہم بیدار نہ ہو سکے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا کہ ہر شخص اپنی سواری کے سر کو پکڑ لے ( اور یہاں سے چل پڑے ) کیونکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آگیا ہے اور اُس نے ہمیں ( نماز سے ) غافل کر دیا ہے ( چنانچہ کچھ آگے جاکر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا - ( فجر کی ) دو سنّتیں ادا کیں ، پھر اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی ۔ میں یہ واقعہ اس جگہ کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بیان کر چکا ہوں ، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صبح کی نماز سے سوئے رہ جانے کا تذکرہ ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا تھا ۔