حدیث نمبر: 1240
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَمَا دَخَلَ فِي السِّنِّ ، فَإِذَا بَقِيَ مِنَ السُّورَةِ ثَلاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا ، ثُمَّ رَكَعَ " غَيْرَ أَنَّ غَيْرَ أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لا يُقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا دَخَلَ فِي السِّنِّ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہونے کے بعد بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے ، پھر جب سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور اُن آیات کی تلاوت کرتے ، پھر رکوع میں چلے جاتے ۔ جبکہ جناب علی بن حجر رحمه اللَّه کی روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجّد میں بیٹھ کر تلاوت نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی ( تو بیٹھ کر تلاوت کر لیتے تھے ) ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا / حدیث: 1240
تخریج حدیث صحيح بخاري