صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة الضحى— نماز چاشت اور اس میں جو مسنون چیزیں ہیں ان کے ابواب کا مجموعہ
(547) بَابُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الضُّحَى باب: چاشت کے وقت بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان ،
وَهَذَا مِنَ الْبَابِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الْحُكْمَ لِلْمُخْبِرِ الَّذِي يُخْبِرُ بِكَوْنِ الشَّيْءِ، لَا مَنْ يَنْفِي الشَّيْءَاور یہ اس بات کے متعلق ہے جس کے بارے میں میں بیان کرچکا ہوں کہ حُکم اس خبر دینے والے کی خبر کے مطابق لگایا جائے گا جو کسی چیز کے ہونے کی خبر دیتا ہے نہ کہ اس کی خبر کے مطابق جو کسی چیز کی نفی کررہا ہو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الضُّحَى " . قَالَ الْمُخَرِّمِيُّ : هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا الْخَبَرُ عِنْدِي مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ : سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ قَالَ فِي الْخَبَرِ : إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَهَذِهِ صَلاةُ الضُّحَىسیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز چاشت پڑھا کرتے تھے ۔ جناب مخرمی کہتے ہیں کہ ہمیں ( ہمارے استاد نے ) اس طرح مختصر روایت بیان کی ہے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ روایت عاصم بن ضمرہ کی روایت کا اختصار ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، میں یہ روایت اس سے پہلے لکھوا چکا ہوں ۔ اس روایت میں ہے کہ جب سورج مشرقی جانب اتنا بلند ہوتا جتنا عصر کے وقت مغربی جانب بلند ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا فرماتے اور یہی چاشت کی نماز ہے ۔