صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة الضحى— نماز چاشت اور اس میں جو مسنون چیزیں ہیں ان کے ابواب کا مجموعہ
(542) بَابُ ذِكْرِ عَدَدِ السُّلَامَى وَهِيَ الْمَفَاصِلُ الَّتِي عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ باب: انسانی جوڑوں کی اس تعداد کا بیان جن پر صدقہ واجب ہوتا ہے
الَّتِي تُجْزِئُ رَكْعَتَا الضُّحَى مِنَ الصَّدَقَةِ الَّتِي عَلَى تِلْكَ الْمَفَاصِلِ كُلِّهَااور چاشت کی دورکعت ان جوڑوں پر واجب صدقے سے کافی ہو جاتی ہیں
نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرَيْدَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فِي الإِنْسَانِ ثَلاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصَلا ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهُ صَدَقَةً " قَالَ : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا أَوِ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ " سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” ہر انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں ۔ اس پر واجب ہے کہ وہ ہر جوڑکا صدقہ ادا کرے - انہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی ( اتنا زیادہ ) صدقہ کرنے کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد میں پڑی بلغم کو دفنا دے یا راستے سے ( تکلیف دہ ) کوئی چیز ہٹا دے ، اگر تُو یہ بھی نہ کر سکے تو چاشت کی دو رکعت تجھے کفایت کر جائیں گی ۔ “