صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة— اس پانی کے ابواب کے مجموعے کا بیان جو ناپاک نہیں ہوتا اور وہ پانی جو نجاست ملنے سے ناپاک ہو جاتا ہے
(94) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقَصْدِ فِي صَبِّ الْمَاءِ، وَكَرَاهَةِ التَّعَدِّي فِيهِ، وَالْأَمْرِ بِاتِّقَاءِ وَسْوَسَةِ الْمَاءِ باب: وضو کرتے وقت پانی کے استعمال میں میانہ روی مستحب ہے اور اسراف کرنا مکروہ ہے ۔ نیز پانی کے وسوسے سے بچنا چاہئے
حدیث نمبر: 122
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، نا خَارِجَةُ ابْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالَ لَهُ وَلَهَانُ ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وضو کا ایک شیطان ہے جسے ولھان کہا جاتا ہے تو تم پانی کے وسوسوں سے بچو۔ “