حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي ثَلاثًا ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن علایہ سے واپس تشریف لائے حتیٰ کہ جب بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرنے لگے تو اس میں داخل ہو گئے اور دو رکعت نماز ادا کی ، اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب سے بڑی لمبی دعا مانگی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے طرف مڑے اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں تو اس نے میرے دو دعائیں قبول فرمائیں اور ایک قبول نہیں فرمائی ۔ میں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی کہ میری اُمّت کو قحط سالی کے ساتھ ہلاک نہ کرنا ، تو میری یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی ۔ اور میں نے یہ دعا کی کہ میری اُمّت کو غرق کرکے ہلاک نہ کرنا تو اُس نے یہ بھی قبول فرمالی ۔ اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان کی باہمی جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہیں فرمائی ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب التطوع غير ما تقدم ذكرنا لها / حدیث: 1217
تخریج حدیث صحيح مسلم