صحيح ابن خزيمه
كتاب: الوضوء— وضو کے متعلق ابواب
بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ- عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا أَوْجَبَ الْوُضُوءَ عَلَى بَعْضِ الْقَائِمِينَ إِلَى الصَّلَاةِ لَا عَلَى كُلِّ قَائِمٍ إِلَى الصَّلَاةِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے کھڑے ہونے والے کچھ لوگوں پر وضو فرض کیا ہے (یعنی جن کا وضو ٹوٹ چکا ہو) نہ کہ ہر نماز پڑھنے والے پر
فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ} [المائدة: ٦] الْآيَةَ، إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا وَلَّى نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَانَ مَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ خَاصًّا وَعَامًّا، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُنَّتِهِ أَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْوُضُوءِ بَعْضَ الْقَائِمِينَ إِلَى الصَّلَاةِ، لَا كُلَّهُمْ، كَمَا بَيَّنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً} [التوبة: ١٠٣] بَعْضَ الْأَمْوَالِ لَا كُلَّهَا، وَكَمَا بَيَّنَ بِقِسْمَةِ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى ِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ اللَّهَ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {ذِي الْقُرْبَى} [النساء: ٣٦] بَعْضَ قَرَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ جَمِيعِهِمْ، وَكَمَا بَيَّنَ أَنَّ اللَّهَ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا} [المائدة: ٣٨] بَعْضَ السُّرَّاقِ دُونَ جَمِيعِهِمْ، إِذْ سَارِقُ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَهُ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ سَارِقٍ، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ: «الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا» ، أَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ السُّرَّاقِ دُونَ بَعْضٍ بِقَوْلِهِ: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا} [المائدة: ٣٨] الْآيَةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للِنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ} [النحل: ٤٤]اپنے اس ارشاد گرامی میں « يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ » [ سورة المائدة ] ” ایمان والو، جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو ، اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت دھولو ۔ ۔ ۔ “ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن پر نازل کردہ ہر خاص و عام حکم کو بیان کرنے والا بنایا ہے لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنّت سے بیان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نماز پڑھنے والے کو وضو کا حکم نہیں دیا کچھ لوگوں کو حکم دیا ہے ( جن کا وضو ٹوٹ چکا ہو ) جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت « خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً » [ سورة التوبة ] ( ان کے اموال سے صدقہ لیجیے ) کی تفسیر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ مال بطور صدقہ ( زکٰوۃ ) لینے کا حکم دیا ہے سارا نہیں ۔ ( یعنی زکٰوۃ کی مقررہ مقدار ) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے قرابت داروں کا حصّہ بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب میں تقسیم کر کے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان « وَذِي الْقُرْبَىٰ » [ سورة البقرة ] ” اور قرابت داروں کو دو “ کی وضاحت کردی کہ قرابت داروں سے مراد آپ کے بعض رشتہ دار ہیں ، سارے نہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ہو « وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا » [ سورة المائدة ] ” چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو “ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا مقصود بعض چور ہیں نہ کہ سب چور ۔ کیونکہ ایک درھم یا اس سے کم قیمت کی چوری کرنے والے پر بھی لفظ چور کا اطلاق ہوتا ہے ۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا : ” چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی « وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا » [ سورة المائدة ] کی وضاحت فرمادی کہ اس سے مراد بعض چور ہیں ( جو چوتھائی دینار تک کی چوری کریں ) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا « وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ » [ سورة النحل ] یہ ذکر ( قرآن مجید ) ہم نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف اتارا ہے تا کہ لوگوں کی جانب جو نازل کیا گیا ہے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے کھول کھول کر بیان کردیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ ، تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ " ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ ، قَالَ : " إِنِّي عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ " . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّسیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے ۔ پھر جب فتح مکّہ کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، ( آج ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عمل کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نہیں کیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ، میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔ “ ( یہ بتانے کے لیے کہ وضو باقی ہو تو ہر نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں ہے ۔ ) یہ عبدالرحمان بن مہدی کی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: " میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے۔" [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
1؎:
یعنی عبدالرحمن بن مہدی وغیرہ کی یہ مرسل روایت جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر نہیں ہے وکیع کی مسند روایت سے جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر ہے زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کے رواۃ زیادہ ہیں، لیکن عبدالرحمن بن مہدی کی علقمہ کے طریق سے روایت مرفوع متصل ہے (جو مؤلف کی پہلی سند ہے) اور اس کے متصل ہونے میں سفیان کے کسی شاگرد کا اختلاف نہیں ہے جیسا کہ محارب والے طریق میں ہے، ’’فافهم‘‘۔
«. . . صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 172]
تاکہ کوئی یہ نہ سمجھےکہ ایک وضو سے متعدد نمازیں نہیں پڑھی جا سکتیں۔
فائدہ: اس حدیث سے ثابت ہوا، جب تک انسان بے وضو نہ ہو تو وہ متعدد فرائض ونوافل ایک وضوسے ہی ادا کرسکتا ہے۔
یہ حدیث آیت مبارکہ: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ﴾ کے منافی نہیں ہے، کیونکہ آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے۔
’’اگرتمہارا وضو نہ ہو اور تم نماز کے لیے اٹھو تووضو کرلو‘‘ تاہم دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے، وضو کی موجودگی میں وضو کرلینا، نور علی نور ہے، کیونکہ آپ ﷺ عام طور پر ہرنماز کے لیے وضو کرتے تھے، اورآیت کا ظاہری تقاضا یہی ہے۔
(شرح النووي: ج/135)
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: " عمر! میں نے اسے عمداً (جان بوجھ کر) کیا ہے " ۲؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 133]
موزوں پر مسح جائز ہے۔ ایک وضو سے متعدد فرض و نفل نمازیں جائز ہیں تا وقتیکہ آدمی بے وضو نہ ہو۔ اس کا جواز اکثر علماء سے منقول ہے، جب کہ ابو جعفر طبری اور ابوالحسن بن باطل نے علماء کے گروہ سے نقل کیا ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو واجب قرار دیتے ہیں، خواہ نمازی باوضو ہی ہو اور ان کی دلیل یہ آیت «إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلوة فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ» [المائدة: 6] ہے۔ میں (نوویؒ) خیال کرتا ہوں کہ یہ مذہب کسی بھی اہل علم سے صحیح ثابت معلوم نہیں ہوتا اور ہو سکتا اس سے مراد یہ ہو کہ ہر نماز کے وقت تجدید وضو مستحب عمل ہے۔ جمہور علماء (کے موقف کہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہیں) پر کئی احادیث صحیحہ ہیں، جن میں ایک حدیث الباب ہے، دوم، صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ کی مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر ستو نتناول فرمائے بعد ازاں نیا وضو کیے بغیر نماز مغرب ادا کی۔ اس طرح اس معنی و مفہوم کی بے شمار روایات ہیں۔ عرفہ، مزدلفہ اور تمام سفروں میں ایک وضو سے دو دو نمازیں جمع کرنا اور غزوہ خندق کے دن چھوٹی ہوئی نمازیں (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء) ایک وضو سے ادا کرنا (یہ تمام احادیث ایک وضو سے متعدد نمازوں کے جواز کی دلیل ہیں۔) اور آیت کریمہ سے مراد یہ ہے کہ جب تم بے وضو ہو اور نماز قائم کرنا چاہو تو وضو کیا کرو۔ [نووي: 176/3]
بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 510]
* نبی اکرم ﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے لیکن فتح مکہ کے دن آپ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔
اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں:۔
1 ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا صرف آپ ہی کے لیے واجب ہواور امت کے لیے واجب نہ ہو۔
پھر یہ وجوب فتح مکہ کے دن ختم کردیا گیا اور ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا افضل ہونا باقی رہ گیا 2 اپ کا یہ فعل مستحب تھا مگر آپ نے اس ڈر سے ترک کردیا کہ کہیں امت پر فرض قرار نہ دے دیا جائے جیسا کہ آپ نے نماز تراویح کو باجماعت ادا کرنا چھوڑدیا تھا۔ دیکھیے: (فتح الباري: 1؍412)