حدیث نمبر: 119
إِذْ لَوْ كَانَ لِقَدْرِ الْمَاءِ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِهِ الْمَرْءُ مِقْدَارٌ لَا يَجُوزُ أَنْ يَزِيدَ عَلَيْهِ وَلَا يَنْقُصَ مِنْهُ شَيْئًا، لَمَا جَازَ أَنْ يَجْتَمِعَ اثَنَانِ وَلَا جَمَاعَةٌ عَلَى إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَيَتَوَضَّئُوا مِنْهُ جَمِيعًا، وَالْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّهُمْ إِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى إِنَاءٍ وَاحِدٍ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ؛ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ أَكْثَرُ حَمْلًا لِلْمَاءِ مِنْ بَعْضٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

کیونکہ اگر وضو کے لیے پانی کی ایسی مقدار مقرر ہوئی کہ جس سے کم یا زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہ ہوتا تو ایک برتن سے دو افراد یا ایک جماعت کا اکٹھّے وضو کرنا بھی ناجائز ہوتا کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ جب وہ ایک ساتھ ایک برتن سے وضو کریں گے تو کچھ لوگ زیادہ پانی لیں گے اور کچھ کم۔

نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَوَضَّأُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدہ عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے وضو کیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 119
تخریج حدیث صحيح بخاري