صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة التطوع بالليل— رات کی نفلی نماز ( تہجّد ) کے ابواب کا مجموعہ
(518) بَابُ اسْتِحْبَابِ الصَّلَاةِ وَكَثْرَتِهَا وَطُولِ الْقِيَامِ فِيهَا يَشْكُرُ اللَّهَ لِمَا يُولِي الْعَبْدَ مِنْ نِعْمَتِهِ وَإِحْسَانِهِ باب: نفل نماز بکثرت اور لمبے قیام کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرسکے
حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ عَلِيٌّ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَقَالَ الآخَرَانِ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بکثرت نفل ) نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ورم آلود ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں ( پھر اس قدر مشقّت کس لئے فرما رہے ہیں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں ( اپنے رب کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ “