صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة التطوع بالليل— رات کی نفلی نماز ( تہجّد ) کے ابواب کا مجموعہ
(518) بَابُ اسْتِحْبَابِ الصَّلَاةِ وَكَثْرَتِهَا وَطُولِ الْقِيَامِ فِيهَا يَشْكُرُ اللَّهَ لِمَا يُولِي الْعَبْدَ مِنْ نِعْمَتِهِ وَإِحْسَانِهِ باب: نفل نماز بکثرت اور لمبے قیام کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرسکے
حدیث نمبر: 1182
ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَكَلَّفُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غُفِرَ لَكَ ؟ قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اتنی زیادہ نفل ) نماز پڑھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سوجھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ اے اللہ کے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مشقّت و تکلیف برداشت کر رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کر دی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ـ “