صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة التطوع بالليل— رات کی نفلی نماز ( تہجّد ) کے ابواب کا مجموعہ
(517) بَابُ الْأَمْرِ بِالِاقْتِصَادِ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَكَرَاهَةِ الْحَمْلِ عَلَى النَّفْسِ مَا لَا تُطِيقُهُ مِنَ التَّطَوُّعِ باب: نفلی نماز میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے کے حُکم کا بیان ، اور نفس پر اُس کی طاقت سے زیادہ نفلی عبادت کا بوجھ ڈالنا نا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 1181
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْتَمِرٍّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبِ بْنُ مُسْلِمِ بْنُ يَحْيَى ، مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : قَالُوا : لِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَ : مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ قَالُوا : تُصَلِّي قَائِمَةً ، فَإِذَا أَعْيَتِ اعْتَمَدَتْ عَلَيْهِ ، فَحَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فَإِذَا أَعْيَى فَلْيَجْلِسْ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح مروی ہے ۔ صرف ان الفاظ کا فرق ہے کہ حاضرین نے عرض کی کہ ( یہ رسّی ) سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” وہ اس رسّی کے ساتھ کیا کرتی ہیں ؟ “ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ( اس کے ساتھ ) کھڑی ہوکر نماز پڑھتی ہیں ، پھر جب تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لیتی ہیں ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھول دیا اور فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے ، پھر جب تھک جائے تو اسے بیٹھ جانا چاہیے ۔ “