صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة التطوع بالليل— رات کی نفلی نماز ( تہجّد ) کے ابواب کا مجموعہ
(517) بَابُ الْأَمْرِ بِالِاقْتِصَادِ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَكَرَاهَةِ الْحَمْلِ عَلَى النَّفْسِ مَا لَا تُطِيقُهُ مِنَ التَّطَوُّعِ باب: نفلی نماز میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے کے حُکم کا بیان ، اور نفس پر اُس کی طاقت سے زیادہ نفلی عبادت کا بوجھ ڈالنا نا پسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ ، أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " حُلُّوهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " لِيُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جبکہ ایک رسّی دوستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ حاضرین نے عرض کی کہ یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے ۔ وہ نماز پڑھتی ہیں ، پھر جب تھک جاتی ہیں یا سست ہو جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا : ” اسے کھول دو ۔ “ پھر فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ نشاط کے ساتھ اور چست ہو کر نماز ادا کرے ، اور جب تھک جائے یا سست ہو جائے ( تو نماز چھوڑ کر ) بیٹھ جائے ( اور آرام کرے ۔ ) “