حدیث نمبر: 1160
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، أَكَانَ يُجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ : " كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ ، رُبَّمَا جَهْرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ " . فَزَادَ بَحْرٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجّد میں قراءت کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہری قراءت کرتے تھے یا آہستہ ؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طریقوں سے قراءت کر لیا کرتے تھے ، بعض اوقات بلند آواز سے قراءت کرتے اور کبھی آہستہ آواز سے کرتے ۔ جناب بحر بن نصر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ تو میں نے کہا ، سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اس کام میں وسعت و گنجائش رکھی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح