صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة— اس پانی کے ابواب کے مجموعے کا بیان جو ناپاک نہیں ہوتا اور وہ پانی جو نجاست ملنے سے ناپاک ہو جاتا ہے
(90) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَازَةِ الْوُضُوءِ بِالْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ " باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کی اجازت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 116
أَوْهَمَ بَعْضَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ تَوْقِيتَ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ تَوْقِيتٌ لَا يَجُوزُ الْوُضُوءُ بِأَقَلَّ مِنْهُمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ وضو کے لیے ایک مد پانی کی مقدار مقررکرنا ایسی تعیین ہے جس سے کم پانی وضو کرنا جائز نہیں ہے۔
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : الْمَكُّوكُ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُدُّ نَفْسُهُمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد سے وضواورپانچ مد سےغسل کیا کرتےتھے۔اما م ابوبکر رحمہ اللہ فرماتےہیں کہ اس حدیث میں مذکورہ مکوک سے مراد ” مد “ ہی ہے۔