حدیث نمبر: 1133
وَأَنَّ الْمَرْأَةَ تَحُلُّ عَنْ نَفْسِهَا عُقَدَ الشَّيْطَانِ بِذِكْرِ اللَّهِ وَالْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ كَالرَّجُلِ سَوَاءً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جس طرح وہ مردوں کی گدی پر گرہیں لگاتا ہے اور عورت بھی اپنے آپ سے شیطان کی گرہیں مرد کی طرح اللہ تعالی کا ذکر کرنے ، وضو کرنے اور نماز پڑھنے سے کھول سکتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نَا أَبِي ، نَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى إِلا عَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى إِلا عَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ بِاللَّيْلِ " ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ " وَأَصْبَحَ خَفِيفًا طَيِّبَ النَّفْسِ ، قَدْ أَصَابَ خَيْرًا " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : الْجَرِيرُ : الْحَبْلُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب ابوسفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مرد اور عورت کے سر پر رسّی سے گرہیں لگائی جاتی ہیں جب وہ سوتا ہے ۔ پھر اگر وہ بیدار ہوا اور اُس نے اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر جب اُٹھ کر وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں ۔ “ جناب ابوسفیان سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مرد اور عورت جب رات کو سوتا ہے تو اس پر رسّی سے گرہ لگادی جاتی ہے ۔ “ اوپر والی روایت کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ بیان کیا ، ” اور وہ صبح کے وقت ہلکا پھلکا خوش مزاج ہوتا ہے ، اُس نے بہت سی خیر و بھلائی حاصل کی ہوتی ہے ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ الجریر سے مراد رسّی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة التطوع بالليل / حدیث: 1133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح