صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن— نمازِوتر اور اس میں سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(462) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الصَّلَاةَ بَعْدَ الْوِتْرِ مُبَاحَةٌ لِجَمِيعِ مَنْ يُرِيدُ الصَّلَاةَ بَعْدَهُ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وتروں کے بعد نماز ادا کرنا ہر اس شخص کے لئے جائز ہے جو وتروں کے بعد نماز پڑھنا چاہتا ہو
حدیث نمبر: 1106
وَأَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ لَمْ يَكُونَا خَاصَّةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أُمَّتِهِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ، أَمْرَ نَدْبٍ وَفَضِيلَةٍ، لَا أَمْرَ إِيجَابٍ وَفَرِيضَةٍنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نَا عَمِّي ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جَهْدٌ وَثِقَلٌ ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ ، وَإِلا كَانَتَا لَهُ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے - تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک یہ سفر مشقّت اور تھکاوٹ کا باعث ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص وتر پڑھے تو دو رکعتیں ( مزید ) پڑھ لے - پھر اگر وہ ( تہجّد کے لئے ) بیدار ہو گیا ( تو بہتر ہے ) ورنہ وہی دو رکعات اسے کافی ہوں گی ۔ “