صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن— نمازِوتر اور اس میں سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(461) بَابُ ذِكْرِ الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ باب: ان دو رکعت میں قراءت کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد ادا کرتے تھے
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، نَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، يَقْرَأُ بِـ : الرَّحْمَنِ ، وَ الْوَاقِعَةِ " . قَالَ أَنَسٌ : وَنَحْنُ نَقْرَأُ بِالسُّوَرِ الْقِصَارِ إِذَا زُلْزِلَتْ ، وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَنَحْوِهِمَامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات وتر پڑھتے تھے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعات وتر پڑھنے لگے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعات ادا کر تے ، ان میں سورہ الرحمٰن اور سوره الواقعة کی تلاوت کر تے ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اور ہم چھوٹی چھوٹی سورتیں ، جیسے « قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ » اور ان جیسی سورتیں پڑھتے ہیں ۔