حدیث نمبر: 1100
نَا نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِئِ ، وَكَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمَ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ ، أَنَّ عُمَرَ ، خَرَجَ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ فَخَرَجَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْقَارِئِ ، فَطَافَ بِالْمَسْجِدِ وَأَهْلُ الْمَسْجِدِ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاتِهِ الرَّهْطُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنِّي أَظُنُّ لَوْ جَمَعْنَا هَؤُلاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ، ثُمَّ عَزَمَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ وَأَمَرَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَنْ يَقُومَ لَهُمْ فِي رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ عُمَرُ عَلَيْهِمْ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ قَارِئِهِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : " نِعْمَ الْبِدْعَةُ هِيَ ، وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ ، يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ ، فَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ ، وَكَانُوا يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي النِّصْفِ : اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ ، وَلا يُؤْمِنُونَ بِوَعْدِكَ ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ، وَأَلْقِ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ ، إِلَهَ الْحَقِّ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَدْعُو لِلْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ خَيْرٍ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَكَانَ يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنْ لَعْنَةِ الْكَفَرَةِ ، وَصَلاتِهِ عَلَى النَّبِيِّ ، وَاسْتِغْفَارِهِ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، وَمَسْأَلَتِهِ : اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ رَبَّنَا ، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ ، إِنَّ عَذَابَكَ لِمَنْ عَادَيْتَ مُلْحِقٌ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَهْوِي سَاجِدًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عروہ بن زبیر بیان کر تے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب کے دور خلافت میں عبدالرحمان بن قاری ، عبد اللہ بن ارقم کے ساتھ بیت المال کے گورنر تھے ۔ ( وہ بیان کر تے ہیں کہ ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ رمضان المبارک کی ایک رات گھر سے باہر تشریف لائے تو عبدالرحمان بن عبدالقاری بھی اُن کے ساتھ چل دیے ۔ اُنہوں نے مسجد کا ایک چکّر لگایا جبکہ اہل مسجد مختلف گروہوں کی شکل میں نماز پڑھ رہے تھے ، کوئی شخص اکیلا ہی نماز پڑھ رہا تھا ، اور کسی شخص کے ساتھ کچھ لوگ مل کر نماز ادا کر رہے تھے ، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ، بیشک میرا خیال ہے کہ اگر ہم ان سب کہ ایک ہی قاری کے ساتھ جمع کریں تو یہ بہت اچھا ہو گا ، پھر سیدنا عمر رضی ﷲ عنہ نے اس بات کا پختہ ارادہ فرمایا ۔ اور سیدنا ابی بن کعب رضی ﷲ عنہ کو حُکم دیا کہ وہ انہیں رمضان المبارک میں نفل نماز پڑھایا کریں ۔ پھر ایک روز سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ ان کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ اپنے قاری کے ساتھ ( نفل ) نماز پڑھ رہے تھے ، تو سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ نیا کام کتنا اچھا ہے ۔ رات کے جس حصّے سے تم سوجاؤ گے وہ اس حصّے سے افصل ہے جس میں تم نماز پڑھ رہے ہو ۔ آپ کی مراد رات کا آخری حصّہ تھا ۔ تو لوگ ابتدائی رات میں قیام کرتے تھے ، اور نصف رمضان المبارک کے بعد کفار پر ( ان الفاظ میں ) لعنت بھیجتے تھے ۔ ( دعائے قنوت پڑھتے تھے ) « اللّٰهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ ، وَلَا يُؤْمِنُونَ بِوَعْدِكَ ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ، وَأَلْقِ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ ، إِلٰهَ الْحَقِّ » ”اے اللہ ، ان کافروں کو تباہ و برباد کر دے ، جو تیرے راستے سے روکتے ہیں ، اور تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں ، اور تیرے وعدے پر ایمان نہیں لاتے ، اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے ، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے ، اے معبود برحق ، ان پر اپنا عذاب مسلط کر دے ۔“ پھر ( قاری اور امام ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا اور مسلمانوں کے لئے حسب استطاعت خیر و بھلائی کی دعائیں مانگتا پھر مومنوں کے لئے بخشش کی دعائیں کرتا ۔ راوی کا بیان ہے کہ امام جب کفار پر لعنت بھیجنے سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کرنے سے فارغ ہوتا تو یہ دعا بھی مانگتا « اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعٰى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ رَبَّنَا، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدّ، إِنَّ عَذَابَكَ لِمَنْ عَادَيْتَ مُلْحِقٌ » ” اے اللہ ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، ہم تیرے لئے ہی نماز پڑھتے اور سجدے کر تے ہیں اور تیری طرف ہی جستجو اور جدو جہد کرتے ہیں ۔ اے ہمارے رب ہم تیری رحمت کی اُمید کر تے ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تیرا عذاب تیرے دشمنوں پر مسلط ہو کر رہے گا ۔ “ ، پھر امام ” اللهُ أَكْبَرُ “ کہہ کر سجدے کے لیے جُھک جاتا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن / حدیث: 1100