حدیث نمبر: 1091
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : حَدَّثَنِي أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلاتِهِ وِتْرًا ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ بِذَلِكَ ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَتْ كُلُّ صَلاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوِتْرُ قَبْلَ الْفَجْرِ " هَذَا حَدِيثُ الْقُطَعِيِّ . وَقَالَ الآخَرُونَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ " . وَقَالَ الرَّمَادِيُّ : فَقَدْ ذَهَبَتْ صَلاةُ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے تو اُسے چاہیے کہ اپنی آخری نماز وتر بنائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حُکم دیا ہے ، پھر جب فجر ہو جائے تو پھر رات کی ہر نماز اور وتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے ۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وتر کی نماز فجر سے پہلے ہے ۔“ یہ جناب محمد بن یحییٰ قطعی کی روایت ہے ۔ دوسرے راویوں نے یہ کہا ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”فجر سے پہلے وتر پڑھو ۔“ اور الرمادی نے کہا کہ ” ( طلوع فجر ہوگئی ) تو رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہوگیا ۔“

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن / حدیث: 1091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح