حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ الْمَكِّيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ قَالَ : " بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ " ، وَسَأَلَ عُمَرَ ، فَقَالَ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " ، فَقَالَ : أَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأُوتِرُ ، قَالَ : " فِعْلِي فَعَلْتَ " وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي قِصَّةِ عُمَرَ ، قَالَ : " فِعْلَ الْقَوِيِّ فَعَلْتَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم وتر کب ادا کرتے ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ میں وتر ادا کرتا ہوں پھر سوتا ہوں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم نے احتیاط والا کام اختیار کیا ہے ۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم وتر کب پڑھتے ہو ؟ اُنہوں نے عرض کی کہ میں سوتا ہوں پھر رات کو ( اُٹھ کر ) نماز پڑھتا ہوں تو وتر بھی ادا کر لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے میرا عمل اختیار کیا ہے ۔ جناب محمد بن یحییٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قصّے میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ تم طاقتور آدمی کا کام کرتے ہو ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن / حدیث: 1085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح