حدیث نمبر: 1074
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَفْصِلَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ : إِنَّهَا الْبُتَيْرَاءُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَسُنَّةَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ تُرِيدُ ؟ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب مطلب بن عبداللہ مخزومی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ۔ تو ایک شخص اُن کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے آپ سے وتر کے بارے میں سوال کیا ۔ تو اُنہوں نے اُسے حُکم دیا کہ وتر علیحدہ پڑھا کرو ۔ ( ایک رکعت الگ پڑھو ) اس شخص نے کہا ، مجھے ڈر ہے کہ لوگ کہیں گے یہ دُم کٹی ( ناقص ) نماز ہے ۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو کیا تم اللہ اور اُسکے رسول کی سنّت ( جاننا ) چاہتے ہو ؟ یہ اللہ اور اُسکے رسول کی سنّت ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن / حدیث: 1074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح