صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن— نمازِوتر اور اس میں سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(444) بَابُ ذِكْرِ دَلِيلٍ بِأَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وتر فرض نہیں ہے
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَالْوِتْرَ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا ، فَلَمْ نَزَلْ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْنَا فَتُصَلِّيَ بِنَا ، فَقَالَ : " كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ " سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان المبارک میں آٹھ رکعت اور وتر پڑھایا ۔ پھر آئندہ رات بھی ہم مسجد میں جمع ہو گئے اور اُمید کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے ( اور نماز پڑھائیں گے ) تو ہم مسجد ہی میں رہے حتیٰ کہ صبح ہو گئی ہم رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، ہمیں اُمید تھی کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے پاس تشریف لائیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے یہ ناپسند کیا کہ تم پر وتر فرض کردیے جائیں ۔ “