حدیث نمبر: 1069
ثنا أَيُّوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ ، أَوْ سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : " فَرِيضَةٌ ، فَقُلْتُ : أَوْ فَقِيلَ لَهُ : فَكَمِ الْفَرْضُ ؟ قَالَ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ ، فَقِيلَ لَهُ : فَمَا تَقُولُ فِي الْوِتْرِ ؟ قَالَ : فَرِيضَةٌ ، فَقُلْتُ أَوْ فَقِيلَ لَهُ : أَنْتَ لا تُحْسِنُ الْحِسَابَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب عبدالوارث بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ سے پوچھا یا امام ابوحنیفہ سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا ، تو اُنہوں نے فرمایا کہ وتر فرض ہے ۔ تو میں نے کہا یا اُن سے کہا گیا ، فرض نمازوں کی تعداد کتنی ہے ؟ جواب دیا کہ پانچ نمازیں ہیں ۔ تو اُن سے کہا گیا تو آپ وتر کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ فرض ہے - تو میں نے کہا یا اُن سے کہا گیا کہ آپ کو حساب کرنا نہیں آتا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن / حدیث: 1069