حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ فَصَلَّى خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ : يَا أَبَا شِبْلٍ ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ : كَلا مَا فَعَلْتُ ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلامٌ ، فَقُلْتُ : بَلَى ، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ لِي : وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَلِكَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَقْبَلَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا ، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَسْوَسَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلاةِ قَالَ : " لا " قَالُوا : فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب ابراہیم بن سوید بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ الله نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعات پڑھادیں ، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں نے کہا کہ اے ابوشبل ، آپ نے پانچ رکعات پڑھادی ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں ، میں نے ایسے نہیں کیا ، لوگوں نے کہا کہ کیوں نہیں ( آپ نے پانچ رکعات ہی پڑھائی ہیں ) میں ( ابراھیم بن سوید ) لوگوں کے ایک طرف بیٹھا تھا اور ابھی کم عمر بچّہ تھا ۔ میں نے کہا کہ کیوں نہیں ، آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں ۔ اُنہوں نے مجھے کہا کہ اے اعور ( کانے ) تو بھی یہی بات کہہ رہا ہے ۔ میں نے عرض کی کہ جی ہاں ، تو وہ قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیر دیا - پھر فرمایا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھا دیں ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرنی شروع کر دیں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”تمہیں کیا ہوا ہے ؟“ تو انہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں“ ۔ تو اُنہوں نے عرض کی کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قبلہ رخ ) مڑ کر دو سجدے کیے پھر سلام پھیر دیا ، پھر فرمایا : ” بیشک میں ایک انسان ہوں میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب السهو فى الصلاة / حدیث: 1061