حدیث نمبر: 104
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ ، فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ ، قَالَتْ كَبْشَةُ : فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بہو سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تشریف لائے تو میں نے اُن کے لیے وضو کا پانی ( برتن میں ) ڈالا ، ( اسی دوران ) ایک بِلّی آئی اور اُس میں سے پینے لگی، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بِلّی کے لیے برتن جُھکادیا حتیٰ کہ اُس نے ( سیر ہو کر پانی ) پی لیا۔ سیدہ کبثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اُنہوں نے مجھے اپنی طرف ( تعجب بھری نظروں سے ) دیکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میری بھتیجی، کیا تم ( اس منظرپر ) تعجب کرتی ہو؟ وہ کہتی ہیں ، میں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو اُنہوں نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک وہ نجس نہیں ہے۔ وہ تو تم پر چکّر لگانے والے ( غلاموں ) یا چکّر لگانے والیوں ( لونڈیوں ) میں سے ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة / حدیث: 104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح