حدیث نمبر: 1037
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُمْ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلًى لِبَنِي أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاةِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

بنی ابی احمد کے آزاد کردہ غلام جناب ابوسفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ۔ تو ذوالیدین نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ اے اﷲ کے رسول ، کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں ؟ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ۔“ تو اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کچھ بات تو یقیناً ہوئی ہے ، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے ؟ “ تو صحابہ نے عرض کی کہ جی ہاں ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ نماز مکمّل کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد ( تشہد میں ) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب السهو فى الصلاة / حدیث: 1037