حدیث نمبر: 1019
وَوَضْعِ الْيَدِ عَلَى الْأَنْفِ كَيْ يُتَوَهَّمَ النَّاسُ أَنَّهُ رَاعِفٌ لَا مُحْدِثٌ حَدَثًا مِنْ دُبُرٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اور ناک پر ہاتھ رکھنے کا بیان تاکہ دیگر نمازی خیال کریں کہ اس کی نکسیر پھوٹ پڑی ہے ، نہ کی اس کی ہوا خارج ہوگئی ہے

نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الْبِرْيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ وَلْيَنْصَرِفْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی شخص کا وضو نماز کے دوران ٹوٹ جائے تو اُسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ اپنی ناک پر رکھے اور نماز سے نکل جائے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الصلاة على البسط / حدیث: 1019
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح