کتب حدیثمختصر حصن المسلمابوابباب: سلام پھیرنے سے پہلے آخری تشہد میں دعائیں​
حدیث نمبر: 64
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [صحيح بخاري:832، صحيح مسلم:588، بلفظ مختلف]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 64
حدیث نمبر: 65
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح بخاري:832، صحيح مسلم:589، واللفظ له]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 65
حدیث نمبر: 66
اللّٰهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! یقیناً میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو نہیں بخش سکتا، اپنے پاس سے مجھے بخشش عنایت فرما اور مجھ پر رحم فرما، یقیناً تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔“ [صحيح بخاري:834، صحيح مسلم:2705]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 66
حدیث نمبر: 67
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کیا، جو پوشیدہ کیا اور جو اعلانیہ کیا، میں نے جو زیادتی کی اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔“ [صحيح مسلم:771]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 67
حدیث نمبر: 68
اللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میری مدد کر، اپنے ذکر پر، اپنے شکر پر اور اپنی بہترین عبادت پر۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:1522، سنن نسائي:1302]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 68
حدیث نمبر: 69
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ البُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ القَبْرِ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں (اس بات سے) تیری پناہ میں آتا ہوں کہ ناکارہ عمر کی طرف لوٹا دیا جاؤں، میں دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [صحيح بخاري:6390، 6370، وعنده ”نرد“ بدل ”ارد“]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 69
حدیث نمبر: 70
اَللّٰهُمَّ إنِّىْ أَسْئَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [إسناده ضعيف، سنن ابن ماجه:910، مسند احمد:474/3]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 70
حدیث نمبر: 71
اللَٰهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي،اللَٰهُمَّ اِنِّىْ أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَ الْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کے ذریعے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو زندگی میرے لئے بہتر سمجھتا ہو اور مجھے اس وقت فوت کر جب تو سمجھتا ہو کہ موت میرے لئے بہتر ہے ، اے اللہ! میں تجھ سے غائب و حاضر میں تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے خوشی اور غصّے میں کلمہ حق کہنے کا سوال کرتا ہوں، خوشحالی اور محتاجی میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور تجھ سے فیصلے کے بعد راضی ہونے کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے موت کے بعد پرسکون زندگی کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذّت کا، اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! ہمیں ایمان کی خوبصورتی سے مزیّن فرما، اور ہمیں ہدایت یافتہ راہنما بنا۔“ [سنده حسن، سنن نسائي:1306، سنن نسائي ميں“ فى الفقرو الغنى ”كے الفاظ هيں، مسند احمد:264/4]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 71
حدیث نمبر: 72
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں تجھ سے اس لئے سوال کرتا ہوں یا اللہ کہ یقیناً تو اکیلا ہے، واحد ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ خود جنا گیا، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ، یہ کہ تو میرے گناہوں کو معاف فرما دے یقیناً تو ہی معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔“ [اسناده صحيح، سنن نسائي:1302، سنن ابي داؤد:985، مسند احمد:338/4،صحيح ابن خزيمه:380/1ح724 بلفظ مختلف]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 72
حدیث نمبر: 73
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تمام تعریفات تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، بے شمار احسانات کرنے والا، اے آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے بنانے والے، اے بزرگی اور عزّت والے، اے ہمیشہ زندہ رہنے والے اے قائم رکھنے والے، میں تجھ سے جنّت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [اسناده حسن، سنن ابن ماجه:3858، مسند احمد:120/3] ، نیز دیکھئے [سنن ابي داؤد:1495، سنن نسائي:1301] ، اور اس میں یہ الفاظ یہ ہیں «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ» ۔
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 73
حدیث نمبر: 74
اللَٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَٰهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں تجھ سے اس وجہ سے سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً تو ہی اللہ ہے تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا ، نہ خود کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔“ [صحيح، سنن ابي داؤد:1493، سنن ترمذي:3475، واللفظ له ،سنن ابن ماجه:3857، مسند احمد:360/5]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 74