کتب حدیثمختصر حصن المسلمابوابباب: سجدے کی دعائیں
حدیث نمبر: 50
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى
حافظ زبیر علی زئی
”پاک ہے میرا رب بلند واعلیٰ۔“ (کم از کم تین مرتبہ) [صحيح، سنن ابي داؤد:871، سنن ترمذي:262، صحيح مسلم:772]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 50
حدیث نمبر: 51
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي
حافظ زبیر علی زئی
”پاک ہے تو اے اللہ! اے ہمارے رب، اپنی تعریف کے ساتھ اے اللہ بخش دے۔“ [صحيح بخاري:794، صحيح مسلم:484]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 51
حدیث نمبر: 52
سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حافظ زبیر علی زئی
”نہایت پاکیزگی والا، نہایت مقدس، فرشتوں اور روح (جبریل) کا رب۔“ [صحيح مسلم:487، سنن ابي داؤد:872]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 52
حدیث نمبر: 53
اللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا، تجھ پر ہی میں ایمان لایا، تیرے لئے ہی فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت بنائی، اس کی سماعت (کانوں کے سوارخ) اور بصارت (آنکھوں کے سوراخ) کو کھولا، بابرکت ہے اللہ تعالیٰ ، بہترین (انداز سے) پیدا کرنے والا ہے۔“ [صحيح مسلم:771]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 53
حدیث نمبر: 54
سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ
حافظ زبیر علی زئی
”پاک ہے (میرا رب) زبردست غلبے والا، بادشاہت، کبریائی اور عظمت والا۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:873، سنن نسائي:1133]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 54
حدیث نمبر: 55
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ ! میرے تمام گناہ معاف فرما دے، چھوٹے، بڑے، پہلے، پچھلے، ظاہر اور پوشیدہ گناہ۔“ [صحيح مسلم:483]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 55
حدیث نمبر: 56
اللّٰهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ ! میں تیری خوشنودی کے ساتھ تیری ناراضگی سے، تیری عافیت کے ساتھ تیری سزا سے، (تیری) پناہ میں آتا ہوں، میں تجھ سے تیری ہی پناہ طلب کرتا ہوں، میں تیری تعریف (کےکلمات) شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی۔“ [صحيح مسلم:486]
حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 56