حدیث نمبر: 42
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ
حافظ زبیر علی زئی
”پاک ہے میرا رب عظمت والا۔“ (تین مرتبہ) [صحيح مسلم:772، سنن ابي داؤد:871، سنن ترمذي:262]
حدیث نمبر: 43
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي
حافظ زبیر علی زئی
”پاک ہے تو اے اللہ، اے ہمارے رب اپنی تعریف کے ساتھ ، اے اللہ مجھے بخش دے۔“ [ صحيح بخاري:794، صحيح مسلم:484]
حدیث نمبر: 44
سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حافظ زبیر علی زئی
”انتہائی زیادہ پاک، انتہائی مقدس، فرشتوں اور روح (جبرئیل) کا رب۔“ [ صحيح مسلم:487]
حدیث نمبر: 45
اللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمَيَّ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
حافظ زبیر علی زئی
”اے اللہ تیرے لئے ہی میں نے رکوع کیا، تجھ پر ہی میں ایمان لایا، تیرے لئے ہی میں فرمانبردار ہوا، میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری ہڈیاں، میرے پٹھے اور وہ جسم جسے میرے قدم اٹھائے ہوئے ہیں، اللہ رب العالمین کے لئے جھک گئے ہیں۔“ [ صحيح مسلم:771مسند احمد:960]
حدیث نمبر: 46
سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ
حافظ زبیر علی زئی
”پاک ہے (اللہ تعالیٰ ) زبردست طاقت والا، عظیم بادشاہت والا، بڑائی اور عظمت والا۔“ [اسناده صحيح، سنن ابي داؤد:873، سنن النسائي:1050، مسند احمد:24/6]