حدیث نمبر: 38
اللّٰهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
حافظ زبیر علی زئی

”اے اللہ، جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب، آسمانوں اور زمینوں کو نئے سرے سے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کا علم رکھنے والے تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس معاملے میں(بھی) یہ اختلاف کرتے ہیں، تو مجھے اختلافی باتوں میں حق (سچائی) کی ہدایت دے، یقیناً تو جسے چاہتا ہےصراط مستقیم کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔“ [ صحيح مسلم:770]

حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 38