حدیث نمبر: 31
يقول مثل ما يقول المؤذن إلا في (حي على الصلاة ، وحي على الفلاح) فيقول ¤ لا حول ولا قوة إلا بالله. ¤ وَأَنا أَشْـهَدُ أَنْ لا إِلـهَ إِلاّ اللهُ وَحْـدَهُ لا شَـريكَ لَـه ، وَأَنَّ محَمّـداً عَبْـدُهُ وَرَسـولُه، رَضيـتُ بِاللهِ رَبَّاً ، وَبِمُحَمَّـدٍ رَسـولاً وَبِالإِسْلامِ دينَـاً
حافظ زبیر علی زئی

اذان سننے والا مؤذن کے جواب میں وہی کلمات کہے جو وہ کہہ رہا ہے. ۱؎
لیکن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ نماز کی طرف ، آؤ کامیابی کی طرف“ کے جواب میں کہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ» ”اللہ کی توفیق و مدد کے بغیر کسی گناہ سے بچنے کی طاقت اور کوئی نیکی کرنے کی قوت نہیں ۔“ ۲؎
پھر یہ کہے۔ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بالیقین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا۔“ ۳؎
۱؎ [صحيح بخاري:611، صحيح مسلم:383] ۲؎ [صحيح بخاري:613، صحيح مسلم:385] ۳؎ [صحيح مسلم:386، صحيح مسلم:384]

حوالہ حدیث مختصر حصن المسلم / ابواب / حدیث: 31