اللَٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ¤ «اللَٰهُمَّ اجْعَلْهُ فَرَطًا وَذُخْرًا لِوَالِدَيْهِ وَشَفِيْعًا مُجَاباً، اللَٰهُمَّ ثَقِّلْ بِهِ مَوَازِينَهُمَا، وَأَعْظِمْ بِهِ أُجُورَهُمَا وَأَلْحِقْهُ بِصَالِحِ الْمُؤْمِنِينَ، ، وَاجْعَلْهُ فِي كَفَالَتِ إبْرَاهِيمَ وَقِه بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ الْجَحِيمِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، اللَٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَسْلَافِنَا وَأَفْرَاطِنَا وَمَنْ سَبَقَنَا بِالْإِيمَانِ”اے اللہ! اسے قبر کے عذاب سے بچا ۔ “ [اسناده صحيح موطا للامام مالك : 288/1]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک بچے کی نماز جنازہ پڑھی ، جس نے ابھی کوئی گناہ نہیں کیا تھا ، میں نے ان سے سنا وہ یہی الفاظ کہہ رہے تھے ۔
اور اگر درج ذیل الفاظ کہے تو بہتر ہے : ”اے اللہ! اسے اس کے والدین کے لئے پیش رو اور ذخیرہ بنا ، اسے سفارشی بنا جس کی سفارش قبول کی جائے ، اے اللہ ! اس کے ذریعے ان دونوں کے اعمال کا وزن بھاری کر دے ، اور اس کے ذریعے ان دونوں کے اجر زیادہ کر دے ، اسے نیک مؤمنین کے ساتھ ملا ، اسے ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں کر دے ، اور اپنی رحمت سے اسے جہنم کے عذاب سے بچا ، اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا کر ، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے عطا کر ، اے اللہ! ہمارے گزر جانے والوں کو ، ہمارے پیش رو بچوں کو اور ہم میں سے جو ایمان کے ساتھ سبقت لے گئے معاف فرما ۔ “ [المغني ابن قدامه : 372/2] یہ حدیث نہیں ہے۔