حدیث نمبر: 113B
قَالَ مَالِك ، فِي رَجُلٍ وَجَدَ فِي ثَوْبِهِ أَثَرَ احْتِلَامٍ ، وَلَا يَدْرِي مَتَى كَانَ ، وَلَا يَذْكُرُ شَيْئًا رَأَى فِي مَنَامِهِ ، قَالَ : لِيَغْتَسِلْ مِنْ أَحْدَثِ نَوْمٍ نَامَهُ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّوْمِ ، فَلْيُعِدْ مَا كَانَ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّوْمِ ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا احْتَلَمَ وَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَرَى وَلَا يَحْتَلِمُ ، فَإِذَا وَجَدَ فِي ثَوْبِهِ مَاءً فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ ، وَذَلِكَ أَنَّ عُمَرَ أَعَادَ مَا كَانَ صَلَّى لِآخِرِ نَوْمٍ نَامَهُ ، وَلَمْ يُعِدْ مَا كَانَ قَبْلَهُ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کپڑے میں نشان احتلام کا پایا اور اس کو خبر نہیں کہ کب احتلام ہوا، اور نہ خواب میں جو دیکھا یاد ہے، تو وہ غسل کرے اخیر خواب سے، اگر اس نے بعد اس خواب کے نماز پڑھی تو اس کا اعادہ کرے، اس لیے کہ کبھی آدمی کو احتلام ہوتا ہے اور کچھ نہیں دیکھتا، اور کبھی دیکھتا ہے مگر احتلام نہیں ہوتا، تو جب تری دیکھے غسل اس کو لازم ہوگا، وجہ اس کی یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو نماز پڑھی تھی اخیر نیند کے، بعد اسی کا اعادہ کیا، اور اس سے پہلے کی نمازوں کا اعادہ نہ کیا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 113B
تخریج حدیث «شركة الحروف نمبر: 104، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 83»