253 - قَالَ سُفْيَانُ فَلَمَّا جَاءَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا بِأَحْسَنَ مِنْهُ وَأَرْخَصَ، وَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُتِرْتُ عَلَي سَهْوَةِ لِي بِقِرَامٍ لِي فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَعَهُ، وَقَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِسفیان کہتے ہیں: جب عبدالرحمان بن قاسم ہمارے پاس آئے، تو انہوں نے یہ روایت اس سے زیادہ بہتر طور پر ہمیں سنائی جس میں زیادہ رخصت پائی جاتی ہے، انہوں نے بتایا: میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے اپنے اوطاق میں پردہ لٹکایا تھا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اس کی مخلوق کے حوالے سے مقابلہ کرتے ہیں۔“ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے اسے کاٹ کے ایک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو تکیے بنا لئے۔