حدیث نمبر: 92B16
فَإِذَا كَانَتِ الْعِلَّةُ عِنْدَ مَنْ وَصَفْنَا ، قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ فِي فَسَادِ الْحَدِيثِ وَتَوْهِينِهِ ، إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الرَّاوِيَ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ شَيْئًا إِمْكَانَ الإِرْسَالَ فِيهِ ، لَزِمَهُ تَرْكُ الِاحْتِجَاجِ فِي قِيَادِ قَوْلِهِ بِرِوَايَةِ مَنْ يُعْلَمُ ، أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ ، إِلَّا فِي نَفْسِ الْخَبَرِ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ السَّمَاعِ لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ ، عَنِ الأَئِمَّةِ الَّذِينَ نَقَلُوا الأَخْبَارَ ، أَنَّهُمْ كَانَتْ لَهُمْ تَارَاتٌ يُرْسِلُونَ فِيهَا الْحَدِيثَ إِرْسَالًا ، وَلَا يَذْكُرُونَ مَنْ سَمِعُوهُ مِنْهُ ، وَتَارَاتٌ يَنْشَطُونَ فِيهَا فَيُسْنِدُونَ الْخَبَرَ عَلَى هَيْئَةِ مَا سَمِعُوا ، فَيُخْبِرُونَ بِالنُّزُولِ فِيهِ إِنْ نَزَلُوا ، وَبِالصُّعُودِ إِنْ صَعِدُوا ، كَمَا شَرَحْنَا ذَلِكَ عَنْهُمْ ،

‏‏‏‏ پھر جب علت اس شخص کے نزدیک جس کا قول ہم نے اوپر بیان کیا حدیث کی خرابی اور توہیں کی یہ ہوئی کہ ایک راوی کا سماع جب دوسرے راوی سے معلوم نہ ہو تو ارسال ممکن ہے تو اس کے قول کے بموجب اس کو لازم آتا ہے ترک کرنا حجت کا ان روایتوں کے ساتھ جن کے راوی کا سماع دوسرے سے معلوم ہو چکا ہے (لیکن خاص اس روایت میں سماع کی تصریح نہیں) البتہ اس شخص کے نزدیک صرف وہی روایت حجت ہو گی جس میں سماع کی تصریح ہے کیوں کہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حدیث روایت کرنے والے اماموں کا حال مختلف ہوتا ہے کبھی تو وہ ارسال کرتے اور جس سے انہوں نے سنا ہو اس کا نام نہیں لیتے اور کبھی خوش

حوالہ حدیث صحيح مسلم / مقدمة / حدیث: 92B16