صحيح مسلم
مقدمة— مقدمہ
باب صِحَّةِ الاِحْتِجَاجِ بِالْحَدِيثِ الْمُعَنْعَنِ إِذَا أَمْكَنَ لِقَاءُ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ باب: معنعن حدیث سے حجت پکڑنا صحیح ہے جبکہ معنعن والوں کی ملاقات ممکن ہو اور ان میں کوئی تدلیس کرنے والا نہ ہو۔
وَمَا قُلْنَا : مِنْ هَذَا مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ ، مُسْتَفِيضٌ مِنْ فِعْلِ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ ، وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ؟ وَسَنَذْكُرُ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَلَى الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا ، عَدَدًا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَكْثَرَ مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، فَمِنْ ذَلِكَ.أَنَّ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ وَابْنَ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعًا وَابْنَ نُمَيْرٍ وَجَمَاعَةً غَيْرَهُمْ رَوَوْا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِد ، فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ وَحُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احتمال جو ہم نے بیان کیا (صرف فرضی اور خیالی نہیں ہے) بلکہ موجود ہے حدیث میں اور جاری ہے بہت سے ثقہ محدثین کی روایتوں میں ۔ ہم تھوڑی سی ایسی روایتیں بیان کرتے ہیں اللہ چاہے تو ان سے دلیل پوری ہو گی بہت سی روایتوں پر ۔ پہلی روایت وہ ہے جو ایوب سختیانی اور ابن مبارک اور وکیع اور ابن نمیر اور ایک جماعت نے سوائے ان کے ہشام سے نقل کی ، اس نے اپنے باپ عروہ سے ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ میں خوشبو لگاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولتے وقت اور احرام باندھتے وقت جو سب سے عمدہ مجھ کو ملتی ۔ اسی ر