حدیث نمبر: 5652M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ رَأَى أُمَّ زُفَرَ تِلْكَ امْرَأَةً طَوِيلَةً سَوْدَاءَ عَلَى سِتْرِ الْكَعْبَةِ .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے ، کہا مجھ کو عطا بن ابی رباح نے خبر دی کہ` انہوں نے ام زفر رضی اللہ عنہا ان ، لمبی اور سیاہ خاتون کو کعبہ کے پردہ پر دیکھا ۔ ( حدیث بالا میں اس کا ذکر ہے )

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المرضى / حدیث: 5652M
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2576

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2576 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں،مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟میں نےکہا:کیوں نہیں،انہوں نے کہا،یہ سیاہ فام عورت،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکرکہنے لگی،مجھے مرگی کادورہ پڑتا ہے۔اور میرا ستر کھل جاتاہے،آپ میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں،آپ نے فرمایا:"اگر تو چاہے تو صبرکر،تجھےجنت مل جائےگی اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں،وہ تجھے صحت بخشے۔"اس نے کہا،میں صبر کروں گی اور کہا میں بے پردہ ہوجاتی ہوں تو آپ اللہ سے دعا فرمائیں،میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6571]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے اگر انسان کے اندر صبر و ثبات کا جذبہ موجزن ہے اور وہ تکلیف و بیماری پر صبر کر سکتا ہے اور کمزوری کا خطرہ نہیں ہے تو اس کے لیے علاج و معالجہ کروانا ضروری نہیں ہے لیکن اگر وہ اس پر قائم نہیں رہ سکتا، یا اس سے اس کے معاملات متاثر ہوتے ہیں تو پھر اس کو علاج کروانا چاہیے، اس کے لیے علاج کروانا ہی بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2576 سے ماخوذ ہے۔