سلسله احاديث صحيحه
الطهارة والوضوء— طہارت اور وضو کا بیان
باب: تیمم کا دنوں کی مقدار کے ساتھ تعلق نہیں
- (يا أبا ذر..! يُجْزِئُكَ الصَّعِيدُ وَلَوْ لَم تَجِدِ الماءَ عِشْرِينَ سَنَةً (وفي روايةٍ: عَشْرَ سِنِينَ) ؛ فإذا وَجَدْتَهُ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ) .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ربذہ مقام پر اپنی بکریوں میں تھے ۔ جب وہ واپس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دیتے ہوئے فرمایا : ”ابوذر ! لیکن وہ خاموش رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار آواز دی، لیکن وہ خاموش رہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابوذر ! تیری ماں تجھے گم پائے ۔“ اب کی بار انہوں نے کہا: میں جنبی ہوں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی کو پانی لانے کا حکم دیا ۔ جب وہ پانی لے کر آئی تو انہوں نے اپنی سواری کی اوٹ میں پردہ کر کے غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا : ”(ایسی صورت میں) تجھے مٹی کافی ہے ، اگرچہ بیس سال یا دس سال پانی نہ ملے ، جب تو پانی پا لے تو اسے اپنے چمڑے کے ساتھ لگا ، (یعنی غسل کرے ) ۔“
_____________________
أخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط " (2/198/1355- ط): حدثنا أحمد قال: حدثنا مقدم قال: حدثنا القاسم عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال:
__________جزء: 7 /صفحہ: 64__________
كان أبو ذر في غُنَيمة له بـ (الربذة)، فلما جاء؛ قال له النبي - صلى الله عليه وسلم -:
" يا أبا ذر! "
فسكت، فرددها عليه، فسكت، فقال:
"يا أبا ذر! ثكلتك أمك ".
قال: إني جنب. فدعا له الجارية بماء، فجاءته، فاستتر براحلته واغتسل، ثم
أتى النبي - صلى الله عليه وسلم -، فقال له النبي - صلى الله عليه وسلم -:
" يجزئك.. " الحديث.
وأخرج المرفوع منه البزار في "مسنده " (1/157/ 310- كشف الأستار): حدثنا مقدم بن محمد بن علي بن مقدم المقدمي: حدثني عمي القاسم بن يحيى ابن عطاء بن مقدم: ثنا هشام بن حسان به. ولفظه:
"الصعيد وَضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين، فإذا وجد الماء؛ فليتق الله وليَمِسَّه بَشَرَهُ؛ فإن ذلك خير". وقال:
" لا يروى عن أبي هريرة إلا من هذا الوجه؛ ومقدم ثقة معروف النسب".
وقال الطبراني:
"تفرد به مقدم ".
قلت: وهو ثقة كما قال البزار وغيره، وهو من شيوخ البخاري في "الصحيح"؛ وكذا عمه ثقة من رجاله، ومن فوقه من رجال الشيخين، فالإسناد صحيح، وصححه ابن القطان كما في "التلخيص الحبير" (1/154)، وعقب عليه بقوله: "لكن قال الدارقطني في "العلل ": إن إرساله أصح ".
__________جزء: 7 /صفحہ: 65__________
ويشهد له حديث أبي ذر نفسه مطولاً عند أبي داود وغيره، وصححه ابن حبان والدارقطني وغيرهما، وهو مخرج في "الإرواء " (1/ 181/153)، و"صحيح أبي داود" (358- 360) . *