وَكَذَلِكَ مَنْ تَكَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ وَغَيْرِهِمَا إِنَّمَا تَكَلَّمُوا فِيهِمْ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمْ، وَكَثْرَةِ خَطَئِهِمْ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُمْ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ. فَإِذَا تَفَرَّدَ أَحَدٌ مِنْ هَؤُلائِ بِحَدِيثٍ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ لَمْ يُحْتَجَّ بِهِ، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى لا يُحْتَجُّ بِهِ، إِنَّمَا عَنَى إِذَا تَفَرَّدَ بِالشَّيْئِ.وَأَشَدُّ مَا يَكُونُ هَذَا إِذَا لَمْ يَحْفَظْ الإِسْنَادَ؛ فَزَادَ فِي الإِسْنَادِ أَوْ نَقَصَ أَوْ غَيَّرَ الإِسْنَادَ أَوْ جَاءَ بِمَا يَتَغَيَّرُ فِيهِ الْمَعْنَى. ایسے ہی جن اہل علم نے مجالد بن سعید اور عبداللہ بن لہیعہ وغیرہ پر کلام کیا ہے تو اس کی وجہ صرف ان کے حافظہ کی خرابی اور روایت میں بکثرت خطا واقع ہونا ہے ، جب کہ بہت سارے ائمہ نے ان سے روایت کی ہے تو جب ان رواۃ میں سے کوئی کسی حدیث کی روایت میں منفرد ہو اور اس کی متابعت نہ پائی جائے تو وہ قابل حجت نہ ہو گا ، جیسے احمد بن حنبل کا قول کہ ابن ابی لیلیٰ قابل حجت نہیں ، احمد بن حنبل کا مقصد یہ ہے کہ جب ابن ابی لیلیٰ کسی چیز کی روایت میں منفرد ہوں تو وہ قابل حجت نہیں ہیں ۔ اور زیادہ یہ ہوتا ہے کہ راوی اسناد کو یاد نہیں رکھتا ، تو سند میں کمی یا زیادتی کر دیتا ہے ، یا سند بدل دیتا ہے ، یا ایسے الفاظ سے روایت کر دیتا ہے جس سے معنی میں تبدیلی ہو جاتی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔