حدیث نمبر: Q3958
وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ عَنْ الضُّعَفَائِ، وَبَيَّنُوا أَحْوَالَهُمْ لِلنَّاسِ.ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بہت سارے ائمہ نے ضعفاء سے روایت کی ہے اور لوگوں کے لیے ان کے حالات کو بھی بیان کر دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4993 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حسن ظن کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4993 سے ماخوذ ہے۔