حدیث نمبر: Q3957
20- وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ ذِكْرِ الْعِلَلِ فِي الأَحَادِيثِ وَالرِّجَالِ وَالتَّارِيخِ فَهُوَ مَا اسْتَخْرَجْتُهُ مِنْ كِتَابِ التَّارِيخِ ، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ مَا نَاظَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، وَمِنْهُ مَا نَاظَرْتُ بِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبَا زُرْعَةَ، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ عَنْ مُحَمَّدٍ، وَأَقَلُّ شَيْئٍ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي زُرْعَةَ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا بِالْعِرَاقِ، وَلا بِخُرَاسَانَ فِي مَعْنَى الْعِلَلِ وَالتَّارِيخِ وَمَعْرِفَةِ الأَسَانِيدِ كَبِيرَ أَحَدٍ أَعْلَمَ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ ۲۰- علل حدیث ، رجال حدیث اور تاریخ ( کتب جرح و تعدیل ) سے متعلق اقوال کی تخریج میں نے تاریخ کی کتابوں سے کی ہے ، اکثر اقوال پر محمد بن اسماعیل بخاری سے مذاکرہ کیا ہے ، بعض اقوال پر دارمی اور ابوزرعہ سے مذاکرہ کیا ہے ، اکثر اقوال پر محمد بن اسماعیل بخاری سے گفتگو کی ہے ، بہت کم اقوال پر عبداللہ بن احمد اور ابوزرعہ رازی سے گفتگو کی ہے ، علل حدیث ، تاریخ اور اسانید کی معرفت میں مجھے عراق اور خراسان میں محمد بن اسماعیل بخاری سے بڑا عالم کوئی اور نہیں ملا ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3957
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 0 | سنن ابي داود: 4993

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4993 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حسن ظن کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4993]
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے۔
(نیز دیکھیے: گزشتہ حدیث 4917) تاہم ضروری ہے کہ انسان ازخود بھی تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کرنے کا موقع نہ دے، جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4993 سے ماخوذ ہے۔