حدیث نمبر: 3944M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ، وَشَرِيكٌ يَقُولُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ ، وَإِسْرَائِيلُ ، يروي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ ، وَيَقُولُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد ابومسلم نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں :` ہم سے شریک نے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور عبدالرحمٰن بن عاصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ، اور شریک کی روایت میں عبداللہ بن عصم ہے ، اور اسرائیل بھی انہیں شیخ سے روایت کرتے ہیں ، لیکن انہوں نے عبداللہ بن عصم کے بجائے عبداللہ بن عصمۃ کہا ہے ، ۳- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3944M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (2221) // هذا الرقم فى طبعة الدعاس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) //
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2220

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2220 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2220]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مختار بن ابوعبید بن مسعود ثقفی کی شہرت اس وقت ہوئی جب اس نے حادثہ حسین کے بعد ان کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان محض اس غرض سے کیا کہ لوگوں کو اپنی جانب مائل کرسکے، اور امارت (حکومت) کے حصول کا راستہ آسان بناسکے، علم وفضل میں پہلے یہ بہت مشہور تھا، آگے چل کرا س نے اپنی شیطنت کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ اس کے عقیدے اور دین کا بگاڑ لوگوں پر واضح ہوگیا، یہ امارت اور دنیا کا طالب تھا، بالآخر 67 ھ میں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ماراگیا۔
حجاج بن یوسف ثقفی اپنے ظلم، قتل، اور خون ریزی میں ضرب المثل ہے، یہ عبدالملک بن مروان کا گورنر تھا، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا اندوہناک حادثہ اسی کے ہاتھ پیش آیا۔
مقام واسط پر 75ھ میں اس کا انتقال ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2220 سے ماخوذ ہے۔