سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3758M
حدثنا أَحمدُ الدورقيُّ، أخبرنَا إسماعيلُ بنُ إبراهيمَ، عن الُجريريِّ، عن عَبدِاللهِ بن شَقيقٍ، قالَ: قلتُ لعائشةَ: أيُّ أصحابِ النَبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كانَ أحبَّ إليهِ؟ قالتْ: أبوبكرٍ، قلتُ: ثم مَنْ؟ قالتْ: ثم عمرُ، قلتُ: ثم مَنْ؟ قالتْ: ثم أبو عُبيدةَ بن الجراح، قلتُ: ثم مَنْ؟ فسكتتْ.ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا ؟ کہا : ابوبکر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : عمر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : ابوعبیدہ بن الجراح ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ اس پر آپ خاموش رہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: محبت کے مختلف وجوہ و اسباب ہوتے ہیں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت بیٹی ہونے کے اعتبار سے اور ان کے زہد و عبادت کی وجہ سے تھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت زوجیت، دینی بصیرت اور فہم و فراست کے سبب تھی، ابوبکر و عمر سے محبت اسلام میں سبقت، دین کی بلندی، علم کی زیادتی، شریعت کی حفاظت اور اسلام کی تائید کے سبب تھی، شیخین کے کمالات و مناقب کسی پر پوشیدہ نہیں، اور ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے محبت اس لیے تھی کہ ان کے ہاتھ پر متعدد فتوحات اسلام ہوئیں رضی الله عنہم اجمعین۔