حدیث نمبر: 3551M
قَالَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمود بن غیلان کہتے ہیں کہ` ہم سے محمد بن بشر عبدی نے یہ حدیث سفیان کے واسطہ سے اسی طرح بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3551M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3830)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1510 | سنن ابن ماجه: 3830

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3830 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3830]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
  مسنون دعائیں یاد کر کے نمازوں میں پڑھی جائیں۔
نماز کے علاوہ بھی دعا مانگتے ہوئے یہ دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔

(2)
ہر قسم کی مشکل اور مصیبت میں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے۔
اس دعا میں دشمنوں کے خلاف مدد بھی مانگی گئی ہے اور اپنی اخلاقی خامیوں سے نجات اور خوبیوں اور ان کے حصول کی درخواست بھی کی گئی ہے، اس لئے یہ ایک جامع دعا ہے۔

(3)
زبان سیدھی ہونے کا مطلب ایسی توفیق کا حصول ہے کہ زبان سے گناہ یا گمراہی کی بات نہ نکلے۔

(4)
دلیل قائم رکھنے سے مراد حق کی تبلیغ کے دوران میں صحیح، پختہ اور واضح دلائل پیش کرنے کی توفیق بھی ہو سکتی ہے اور قبر یا قیامت میں حساب کتا ب کے موقع پر ایسا جواب دینے کی توفیق بھی جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو کر گناہ معاف فرما دے اور جنت میں داخل کر دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3830 سے ماخوذ ہے۔