سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب مَا يَقُولُ عِنْدَ الْغَضَبِ باب: غصہ آنے پر کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ . قَالَ : وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، مَاتَ مُعَاذٌ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى غُلَامٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ ، هَكَذَا رَوَى شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَرَآهُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى يكنى أبا عيسى ، وأبو ليلى اسمه يسار ، وروي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : أَدْرَكْتُ عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ` اسی طرح کی حدیث روایت کی ، ۳- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ بن جبل سے نہیں سنا ہے ، معاذ بن جبل کا انتقال عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوا ہے ، اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ جب شہید ہوئے ہیں اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے تھے
۴- اسی طرح شعبہ نے بھی حکم کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے ، ۵- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، اور ان کو دیکھا ہے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی کنیت ابوعیسیٰ ہے اور ابی لیلیٰ کا نام یسار ہے ، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سو بیس صحابہ کو پایا ہے اور دیکھا ہے ۔