حدیث نمبر: 3430M
وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے` شعبہ نے ابواسحاق سے ، ابواسحاق نے اغر ابو مسلم سے ، اور ابو مسلم نے ابوہریرہ اور ابو سعید خدری سے اس حدیث کے مانند ہم معنی حدیث روایت کی ، اور شعبہ نے اسے مرفوع نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3430M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3794)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3794 | معجم صغير للطبراني: 340

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3794 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔`
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3794]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
  مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرارد یا ہے اور مزید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت موقوفاً صحیح ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے مرفوعاً صحیح قرار دیا ہے اور انہی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الصحيحة: 3/ 378، 379 رقم: 1390)

(2) (لااله الاالله)
سب سے بڑی حقیقت ہے اور مذکورہ بالا اذکار اس حقیقت کا اعتراف ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کی تصدیق فرماتا ہے۔

(3)
اللہ کے تصدیق فرمانے سے ان اذکار کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اس لیے ان کا ثواب بھی بہت زیادہ ہوگا۔

(4)
اگر حادثاتی موت کی صورت میں زبان سے (لا اله الله)
کہنے کا موقع نہ ملا تو دل کا یقین و اعتقاد مغفرت کا باعث ہوگا، ان شاء اللہ۔
کیونکہ احادیث میں حادثاتی موت کی مختلف صورتوں کو شہادت کی موت قرار دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3794 سے ماخوذ ہے۔